Sunday, August 2, 2015

تو تھک جاتے ہیں


نیند کے شہر کو جاتے ہیں 
تو تھک جاتے ہیں
خواب کا بوجھ اٹھاتے ہیں 
تو تھک جاتے ہیں
کس طرح پلکیں اٹھا کر
تیری جانب دیکھیں
ہم جو پلکوں کو گراتے ہیں 
تو تھک جاتے ہیں

No comments: