Friday, July 31, 2015

آج ہم دونوں نے _________ کالے کپڑے پہنے تھے اس نے میرے تِل کا رنگ میں نے اُسکے دل کا رنگ


آج ہم دونوں نے _________ کالے کپڑے پہنے تھے
اس نے میرے تِل کا رنگ میں نے اُسکے دل کا رنگ

ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ۔۔ !!! ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮍ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ۔۔ !!!


ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ۔۔ !!!
ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮍ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ۔۔ !!!

Wednesday, July 29, 2015

اُنکے کوچے کو جو راہ نکلتی ہے در مقتل سے۔۔


اُنکے کوچے کو جو راہ نکلتی ہے
در مقتل سے۔۔۔۔۔۔۔۔ جا نکلتی ہے

ُحسن جاناں کی کیا بات وقاص
جو بھی دیکھے تو واہ نکلتی ہے

سید وقاص شاہ

Tuesday, July 28, 2015

جانے کتنے ہی چراغوں کی عداوت جھیل


جانے کتنے ہی چراغوں کی عداوت جھیلی
تب کہیں جا کے ستاروں کو گوارا ہُوا مَیں

Thursday, July 23, 2015

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﻮﮮ ﺗﻮ ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ



ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﻮﮮ ﺗﻮ ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﮐﯿﺴﮯ ﺟﮭﮏ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﻧﺎ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ !!__

Thursday, July 16, 2015

ﮐﺒﯿﺮﺍ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﮕﺖ ﻣﯿﮟ ﺍُﻟﭩﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺭﯾﺖ....



ﮐﺒﯿﺮﺍ ﺗﯿﺮﯼ ﺟﮕﺖ ﻣﯿﮟ ﺍُﻟﭩﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺭﯾﺖ....
ﭘﺎﭘﯽ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﺍﺝ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺑﮭﯿﮏ

Wednesday, July 15, 2015

ﺟﻮ ﻧﺮﻣﯿﺎﮞ ﮬﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯﮬﯿﮟ



ﺟﻮ ﻧﺮﻣﯿﺎﮞ ﮬﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯﮬﯿﮟ
ﺟﻮ ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﮬﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯﮬﯿﮟ
ﯾﮧ ﺳﺐ ﻧﻈﺎﺭﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮬﯿﮟ
ﯾﮧ ﺟﺰﺑﮯﺳﺎﺭﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯﮬﯿﮟ
ﮬﻤﺎﺭﮮﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺑﺸﺎﺭﯾﮟ
ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯﺳﺐ ﺍﺷﺎﺭﮮ
ﺍﺩﺍ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﻭﻓﺎ ﮬﻤﺎﺭﯼ
ﺻﻨﻢ ﮬﻤﺎﺭﮮﺗﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮬﯿﮟ
ﻟﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﻮﺧﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﻣﺴﺘﯽ

Monday, July 13, 2015


اﮮ ﻣﻮﺝ ِ ﺗﻼﻃﻢ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﺮ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﻮ
ﺑﮭﻨﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻟﮯ ﭼﻞ
ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﭘﮧ ﮐﻢ ﺑﺨﺖ
ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ

اس قدر برفباری___ صدموں کی


اس قدر برفباری___ صدموں کی
جم کر رہ گیا ہے صبر آنکھوں میں

Sunday, July 12, 2015

آج ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹکرا گئی تھی خود سے



آج ۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹکرا گئی تھی خود سے 
آج میں بے۔۔۔۔۔۔۔۔ حساب ٹوٹی ہوں

Saturday, July 11, 2015

انا پرست ہوں، ضدی ہوں، سر پھرا ہوں مگر ،،،




انا پرست ہوں، ضدی ہوں، سر پھرا ہوں مگر ،،،
مجھے تمہاری "محبت" بدل بھی سکتی تھی_!

Thursday, July 9, 2015

حُسن جاناں پے وقاص کبھی مت جانا


حُسن جاناں پے وقاص کبھی مت جانا
یہ جانا ہے اگرچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جان سے جانا


سید وقاص شاہ

وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نِباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ نئے گِلے، شکائتیں، وہ مزے مزے کی حکائتیں
وہ ہر ایک بات پہ رُوٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرو، تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا بَرملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بُری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم کو تُم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

سُنو ذکر ہے کئی سال کا، کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذِکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہ بگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کہ ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جسے آپ گِنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومن مُبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Wednesday, July 8, 2015


کر چُکا کوشِشیں بُہت لیکن
ہجر اُترا نہیں ھے کاغذ پر...!!

ﺟﻨﺪﮌﯼ ﻣﯿﺘﻬﻮﮞ ﻧﺒﻬﺪﯼ ﻧﺎﮨﯿﮟ

ﺟﻨﺪﮌﯼ ﻣﯿﺘﻬﻮﮞ ﻧﺒﻬﺪﯼ ﻧﺎﮨﯿﮟ
ﺍﮎ ﻭﺍﺭﯼ ﻓﯿﺮ ﭘﺎﻝ ﻧﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟ .......

Tuesday, July 7, 2015

ہر گھڑی درد


ہر گھڑی درد کی
شدّتوں سے سسکتی آنکھیں
اور اُوپر سے تیرے وصل کے 
خوابوں کے عذاب 
روز آنگن میں کھڑے پیڑسے 
گرتے پتّے
اور سر ِ شام پرندوں پہ 
گزرتی آفت
نبض اور دل کی بغاوت سے
تڑپتی ہے حیات
اس بڑے شہر میں برھتا ہوا
لوگوں کا قحط
روز ہوتی ہے میرے ساتھ
دیواروں کی جھڑپ
روز اک سانس کو 
پھانسی کی سزا ملتی ہے
اب تو آجا
اے میری جان کے پیاسے دشمن
اب تو آجا
کہ تیرے ہجر کے 
قیدی کو یہاں 
روز اس شہر میں 
مرنے کی "دعا "ملتی ہے

ہے خواہش میک اپ سے مثالِ حور ہو جانا،


ہے خواہش میک اپ سے مثالِ حور ہو جانا،
.مگر ممکن کہاں کشمش کا پهر انگور ہوجانا .!

Monday, July 6, 2015

ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗَﻮ،


ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗَﻮ،
ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣَﻮﺵ ﮨَﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻗُﺮﺑَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻓُﺮﻗَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﻓَﺮﯾﺎﺩ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﺍَﺷﮑُﻮﮞ ﮐَﻮ ﭘِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟَﻔﻆ ﮐﺎ،
ﭼَﺮﭼﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﻭﮦ ﻣَﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺍَﭘﻨﯽ ﭼﺎﮨَﺖ ﮐَﻮ،
ﮐَﺒﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ !.

Sunday, July 5, 2015

تعلق ٹوٹ جائے گا



˙·٠•●♥ Poetry & Sayings ♥●•٠·˙

مسلسل بے رخی سے یہ تعلق ٹوٹ جائے گا
تمہیں پہلے بتایا تها نظر انداز مت کرنا

تم بے وفا رتوں میں حوالہ ہو عشق کا


تم بے وفا رتوں میں حوالہ ہو عشق کا 
تم بے بسی ہو پھر بھی محیطِ حیات ہو

کسی کم ظرف کے ہاتھوں نہیں کھائی ہے شکست


کسی کم ظرف کے ہاتھوں نہیں کھائی ہے شکست 
خوش میں اس پر ہوں کے دشمن مرے معیار کا تھا

حسرتیں یوں لپٹ کےروتی ہیں
زندگی _____ اک مزار ہو جیسے

ہائے................ یہ میری محبت پہ زوال
وہ دعاوءں میں بهی اب مجهے مانگتا نہیں

روحاملک

Saturday, July 4, 2015


۔۔۔۔۔۔۔من اٹکیاں بے پرواہ دے نال۔۔۔۔۔۔

ندیوں پار رانجھن دا ٹھانہ
کیتے قول ضروری جانا

مِنتاں کراں ملاح دے نال
من اٹکیاں بے پرواہ دے نال


معلوم کر رہا تھا زمانہ _____جوازِ مرگ
اپنوں نے کہہ دیا کہ مقدر سے مر گئے

کچھ اعتبار کے پیاسے لوگ ہیں ہم 
کچھ پیار کے پیاسے لوگ ہیں ہم

کوئی گفتار تو کرے نرمی سے
کوئی بات تو کرے ہمدردی کی۔۔۔۔۔

سید وقاص شاہ

برسوں سنوراتے رھے کردار ہم مگر

کچھ لوگ بازی لے گئے صورت سنوار کر


ﺗﯿﺮﮮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ
ﺳﺒﮭﯽ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ زﻭﺍﻝ ﮐﮯ...!

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا 
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا 

آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست 
تو مصیبت میں عجب یاد آیا 

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے 
پھر تیرا وعدہ شب یاد آیا 

تیرا بھولا ہوا پیماِن وفا 
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا 

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے 
پھر کوئی شہر طرب یاد آیا 

حاِل دل ہم بھی ُسناتے لیکن 
جب وہ ُرخصت ہوا تب یاد آیا 

بیٹھ کر سایہ ُگل میں ناصر 
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

Friday, July 3, 2015



خوشبو کہ جذیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے


ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺍُﭨﮫ ﺭﮨﺎ ﮬﮯ ﺗﻌﻔﻦ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ
ﻣَﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ﻣﯿﺖ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﯽ..!

کوئی درہ کوئی کوڑا کوئی چابک لاو
ہم کو لفظوں سے نصیحت نہیں ملنے والی

Thursday, July 2, 2015



کم ظرف منافق تهے سو افسوس نہیں هے 

وہ لوگ جو میرے حلقہ احباب سے نکلے
خاموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعوا کیوں کریں ہم

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

روپ دے کر مجھے اس میں کسی شہزادے کا

اپنے بچوں کو کہانی وہ سناتی ہوگی .............


ﮨﻢ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﯼ ﮨﮯ ﮔﺮﺍﮞ ﺑﺎﺭ ﺑﮩﺖ

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﯿﺴﯽ

جس طرف اٹھ گئ هیں آهیں هیں..... ....

چشم بدور کیا نگاهیں هیں............... 

حضور میری صداؤں پہ غور تو کیجئے 

فقیر یہ تو نہیں کہتا ،" گلے لگا لیجیے ..!!
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آکے جا چکا ہے میں انتظار میں ہوں


تیرےبغیربھی خالی نہیں مری راتیں

ہےایک سایہ مرےساتھ ہمنشیں کی طرح ۔
ناصرکاظمی

ہمارے بعد اندھیرا رہے گا اس محفل میں

بہت چراغ جلاو گے روشنی کے لیے......!!!

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا

ہے تار تار مرے اعتماد کا دامن
کِسے بتاؤں کہ میں بھی اِمین رکھتا تھا

اُتر گیا ہے رگوں میں مری لہُو بن کر
وہ زہر ذائقہ انگبین رکھتا تھا

گُزرنے والے نہ یُوں سرسری گُزر دل سے
مکاں شِکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا

وہ عقلِ کُل تھا بھلا کِس کی مانتا محسن
خیال خام پہ پُختہ یقین رکھتا تھا

محسن بھوپالی

رُوٹھا تھا جس غرور سے وہ بھی تو یاد کر

آنکھوں میں تیری آج یہ آنسو فضول ہیں...!!

Wednesday, July 1, 2015


اے کاش تو بهی سنتا کبهی آہٹوں کی گونج

میری طرح سے تو بهی کبهی ڈهونڈتا مجهے..!!

آنکھیں جو بے حال ہوئی ہیں

دیکھ لیا تھا ____ خواب پرایا..!!



مْجھے مرکز میں رہنا پڑتا ہے 
یاد جب دائِرہ بناتی ہے__!!


سچ کو کاغذ پہ اترنے میں ہو خطرہ شاید

میری سوچی ہوئی ہر بات زبانی لے جا ..!!



تو وفا کی راہ میں کبھی ساتھ تو چل 
بکهر جائوں گا تیری راہ میں پھولوں کی طرح..!


اب آ گئے هو تو بيٹهو وفا کي بات کرتے هيں
وفا کي بات ميں هر بے وفا سے کرتا هوں...!!


                                                        ·٠•●♥ Poetry & Sayings ♥●•٠·˙


اﮎ ﺩﻧﯿﺎﺑﮭﻮﻝ ﺑﮭﻠﯿﺎﮞ ﺳﯽ..

ﺍﮎ ﮔﻮﻧﮕﺎ ﺑﮩﺮﺍ ﺍﻧﺪﮬﺎ دل....!!