Saturday, July 4, 2015


دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا 
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا 

آج مشکل تھا سنبھلنا اے دوست 
تو مصیبت میں عجب یاد آیا 

دن گزارا تھا بڑی مشکل سے 
پھر تیرا وعدہ شب یاد آیا 

تیرا بھولا ہوا پیماِن وفا 
مر رہیں گے اگر اب یاد آیا 

پھر کئی لوگ نظر سے گزرے 
پھر کوئی شہر طرب یاد آیا 

حاِل دل ہم بھی ُسناتے لیکن 
جب وہ ُرخصت ہوا تب یاد آیا 

بیٹھ کر سایہ ُگل میں ناصر 
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا

No comments: