ہر گھڑی درد کی
شدّتوں سے سسکتی آنکھیں
اور اُوپر سے تیرے وصل کے
خوابوں کے عذاب
روز آنگن میں کھڑے پیڑسے
گرتے پتّے
اور سر ِ شام پرندوں پہ
گزرتی آفت
نبض اور دل کی بغاوت سے
تڑپتی ہے حیات
اس بڑے شہر میں برھتا ہوا
لوگوں کا قحط
روز ہوتی ہے میرے ساتھ
دیواروں کی جھڑپ
روز اک سانس کو
پھانسی کی سزا ملتی ہے
اب تو آجا
اے میری جان کے پیاسے دشمن
اب تو آجا
کہ تیرے ہجر کے
قیدی کو یہاں
روز اس شہر میں
مرنے کی "دعا "ملتی ہے

No comments:
Post a Comment